Friday, March 3, 2017

Faizan-e-Sadqaat


.1
''صدقہ بُری موت کو روکتاہے ''۔ اسے احميد نے رافع بن مکیث سے اورقضاعی نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا۔

(کنزالعمال ، کتاب الزکاۃ ، قسم الأقوال، ج۶، ص۱۴۸، الحدیث ۱۵۹۷۷، دار الکتب العلمیۃ، بیروت) 


.2
''بے شک اللہ عزوجل، صدقہ کے سبب سے ستّردروازے بُری موت کے دفع فرماتاہے''۔ اسے امام عبداللہ بن مبارک نے کتاب البر میں انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔

(لترغیب و الترھیب، الترغیب في الصدقۃ الخ، ج۲، ص۷، رقم الحدیث۲۱، دار الکتب العلمیۃ بیروت)


.3
''صدقہ بُرائی کے ستّر دروازے بند کردیتا ہے''۔ اسے طبرانی نے کبیرمیں رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا.

(المعجم الکبیرللطبرانی  ، ج۴، ص۲۷۴، الحدیث ۴۴۰۲، المکتبۃ الفیصلیۃ ، بیروت)


.4
حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے افضل صدقہ کے بارے میں پوچھا تو ارشاد فرمایا:
اَنْ تَصَدَّقَ وَاَنْتَ صَحِیْحٌ حَرِیْصٌ تَأْمَلُ الْغِنٰی وَتَخْشَی الْفَقْرَ وَلاَ تُمْھِلْ
حَتّٰی اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ قُلْتَ لِفُلاَنٍ کَذَا وَلِفُلاَنٍ کَذَا اِلاَّ وَقَدْ کَانَ لِفُلاَنٍ

اَفضل صَدَقہ یہ ہے کہ توتَصَدُّق(یعنی صدقہ ) کرے اِس حال میں کہ تو تندرست ہو اور مال پر حریص ، خواہش مند سے دولت کی تمنا رکھتا ہو۔ اور محتاجی سے ڈرتا ہو ۔یہ نہ ہو کہ جب دم گلے میں اَٹکے اس وقت کہے کہ فُلاں کو اتنا فُلاں کو اتنا کہ اب توفُلا ں کے لیے ہو ہی چکا۔

(صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب صد قۃ عند الموت،الحدیث ۲۷۴۸،ج۲،ص۲۳۴)


.5
رحمتِ عالم ،نورِمجسم ،شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''صدقہ مال ميں کوئی کمی نہيں کرتا، اللہ عزوجل عفو کے بدلے بندے کی عزت ميں اضافہ فرما ديتا ہے اور جو شخص اللہ عزوجل کے لئے عاجزی کرتا ہے اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرما تا ہے۔''

(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ ، باب استحباب العفووالتواضع ، الحدیث: ۶۵۹۲،ص۱۱۳۰)


.6
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے ''صدقہ مال ميں کمی نہيں کرتا اور بندہ جب صدقہ کرنے کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہے تو سائل کے ہاتھ ميں جانے سے پہلے ہی اللہ عزوجل اس سے راضی ہو کر اسے قبول فرما ليتا ہے۔''

(المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۲۱۵۰،ج۱۱،ص۳۲۰)


.7
شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹا ديتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا ديتاہے۔''

(المرجع السابق، الحدیث:۲۶۱۶،ص۱۹۱۵)