Sunday, April 2, 2017

غصہ نہ کرو

https://www.dawateislami.net/magazine/topic/1/3

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی: اَوْصِنِىْ یعنی  مجھے نصیحت فرمائیں، حضورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: ”لَا تَغْضَبْ“یعنی غصہ نہ کرو، اس نے بار بار یہی سوال کیایعنی مجھے نصیحت فرمائیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہی اِرشاد فرمایا: ”لَا تَغْضَبْ“یعنی غصہ نہ کرو۔
(بخاری،ج4، ص131،حدیث: 6116)
مذکورہ حدیث نبیِّ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ”جَوَامِعُ الْکَلِم“ میں سے ہے ، ایک ہی جملے میں دنیا وآخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے کا طریقہ ارشاد فرمادیا ۔ 
حافظ عمر بن علی المعروف ابنِ مُلَقِّن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : حدیث کا معنی یہ ہے کہ غصہ کے اسباب سے بچو اور وہ کام جو غصہ دلائیں اُن کے دَرْپے نہ ہو ، جہاں تک خود غصہ کی بات ہے تو یہ طبعی فِطری چیز ہے،اور فِطرت وطبیعت سے اس کا(مکمل طور پر) زائل ہوجانا ممکن نہیں۔ مزید ارشاد فرماتے ہیں: شارع عَلَیْہِ السَّلَام نے اس ایک کلمہ میں دنیا و آخرت کی خیر کو جمع فرمادیا کیونکہ غصہ بندے کو قطعِ رحمی کرنے، دوسروں سے منہ موڑنے اور شفقت ومہربانی نہ کرنے کی طرف لے جاتا اور بعض اوقات تکلیف دینے پر بھی اُبھارتا ہے۔
(المعين  علی تفھم الاربعین، ص282)
حافظ، فَقِیہ عبد الرحمن بن شہاب المعروف اِبنِ رَجب حَنبلی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِس فرمان کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ”غُصّہ نہ کرو“  کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ کام اختیار کرو جو حُسنِ اَخلاق جیسے بخشش وسخاوت ، بُردْباری وحیا ، عاجزی ، غصہ برداشت کرنا وغیرہ پیدا کریں، اور یہ کام اس کی ایسی عادت بن جائیں کہ جب غصے کے اسباب پائے جائیں تو وہ غصے کو اپنے سے دور کرنے پر قادر ہوجائے  ۔ دوسرا اِس کا معنی یہ ہوسکتا ہے کہ جب غصہ آجائے تو غصے کے مُقْتَضٰی یعنی جس غلط بات کا غصہ تقاضا کررہا ہے اس پر عمل نہ کرو۔
(ملخص ازجامع العلوم والحكم، ص: 182)
امام، فقیہ ابنِ حجر ہیتمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: غصہ وہ نا پسندیدہ ہے جو اللہ تعَالٰی کے لئے نہ ہو ، ہاں!اگر غصہ اللہ تعَالٰی کے لئے ہو مثلاً: اللہ تعَالٰی کی نا فرمانی  ہوتا دیکھ کر کسی کو غصہ آیا تو یہ پسندیدہ بات ہے ، اسی وجہ سے مخلوق میں سب سے زیادہ شفقت ومہربانی فرمانے والے، صبر و دَرْگُزر کے پیکر یعنی نبیِّ اَنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُس وقت سخت جَلال میں تشریف لاتے جباللہ تعَالٰی کی حُدود کو، محرمات کو پامال کیا جاتا حالانکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کبھی اپنی ذات کے لئے غصہ نہیں کرتے تھے۔
(الفتح المبين،ص338 مع الزیادۃ والتفصيل)
مزید آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جب کوئی شخص غصہ میں ہو تو اُس وقت  اپنی جان ، اپنے گھر والوں اور اپنے مال کے بارے میں بددُعا نہ کرے کیونکہ بعض اَوقات وہ گھڑی قَبولیَّت کی ہوتی ہے اور اِس کی وہ بات قبول کرلی جاتی ہے۔ مسلم شریف کی ایک حدیث میں یہ موجو دہے کہ ایک شخص نے سفر کے دوران اپنے اونٹ کو لَعنت کی تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُس سے اِرشاد فرمایا : اپنے اِس اونٹ سے اُترجا  کیونکہ ہمارے ساتھ کوئی مَلْعون شے نہیں چلے گی ، پھر اِرشاد فرمایا: اپنے اوپر، اپنی اولاد پر، اپنے اَموال پر بددُعا نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ وہ گھڑی ہو جس میں اللہ تعَالٰی سوال کو قبول فرماتا ہے اور تمہاری یہ بات بھی قبول ہوجائے ۔
(الفتح المبین،ص338ملخصا)
غصہ پی جانے کے فضائل، غصہ دور کرنے کے بہت سے علاج علمائے کرام نے اپنی کُتب میں تحریرکئے  ہیں۔ اِس حوالے سے امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ ”غصّے کا علاج “(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالَعہ بھی نہایت مفید رہے گا ۔