Thursday, July 27, 2017

ہمارا ضمیر



بڑی خوشیوں بھری  تقریب تھی، ہر طرف سے مجھے مبارکباد دی گئی ، گلے میں پھولوں کے ہار اور تحائف کا ایک لمبا سلسلہ رہا  ۔آخر میں کھانے کا پر تکلف انتظام تھا ، اس سے فارغ ہو کر سب مہمان اپنے گھر چل دئیے
میں بھی اپنے کمرے میں آ گیا اور نائٹ ڈریس پہن کر ابھی بیڈ پر لیٹا ہی تھا کہ میری نظر کمرے کی بالکونی پر پڑی    ۔۔۔۔  وہاں کوئی  کھڑا تھا
 میرے کمرے کی بالکونی میں  چادر اوڑھے تنِ تنہا  کھڑا یہ شخص  کون ہو سکتا ہے ؟
یہی سوچتے سوچتے  میں باہر آ یا اور ہمت کر کے اس سے پوچھ ہی لیا  ’’ آپ کون ۔۔۔ ؟‘‘
آپ کی تقریب کیسی رہی ۔۔۔ ؟      اس نے بھی سوال داغ دیا
وہ تو اچھی رہی مگر  آپ کون ہیں ۔۔۔ ؟   میں نے اپنا سوال دھرایا
اب جب وہ میری طرف مڑا تو میں چونک گیا ۔۔۔ کیونکہ وہ تو ہوبہو میری شکل و صورت والا تھا ۔۔۔ میں ابھی حیران ہی کھڑا تھا کہ وہ بول پڑا   ۔۔۔۔ 
جناب آپ کو میں بھی ضرور مبارک باد دیتا کہ آپ آج بائیس سال کے ہو گئے ہیں مگر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا کوئی کسی کو اس کے نقصان پر مبارک باد دیتا ہے ؟
یا کوئی اپنے نقصان پر خوش ہو کر اتنی بڑی تقریب رکھتا ہے اور اتنے مہمان جمع کرتا ہے   ۔۔۔ ؟  
اگر نہیں تو یہ سب آپ کیوں کر رہے ہیں  ۔۔۔ ؟
 کیا مطلب ہے آپ کا ، آپ ذرا کھل کر بولیے ۔۔۔؟ میرے لہجے میں اکتاہٹ واضح تھی ۔
میرا مطلب ہے کہ کیا آپ نے یہ تقریب  اس لیے رکھی تھی کہ آپکی زندگی کا ایک سال کم  ہو گیا  ۔ ۔۔  کیا یہ خوشیاں اس لیے تھیں کہ آپ کی زندگی کے  365 دن مزید کم ہو گئے ہیں ۔۔۔۔ ؟
 اور  کیا ان پچھلے سالوں میں  آپ  نے موت کے بعد کی ہمیشہ والی  زندگی کی تیاری مکمل کر لی ہے ؟  کیا آ پ نے قبر کی تیاری کر لی ہے  کیا اس زندگی کی تیاری میں حقوق  اللہ اور حقوق العباد کے معا ملات صحیح طور پر طے ہوچکے ہیں ۔۔ ؟
یا آپ کو  اس ہمیشہ کی  زندگی میں کامیابی کی سند مل چکی ہے  ۔۔۔ ؟  یا کیا ایسا ہو گیا ہے کہ جس کی بناء پر اتنی خوشیاں منائی جا رہی ہے ۔۔۔ ؟
وہ  اتنا بول کر میری طرف  سوالیہ انداز  میں دیکھنے لگا  ۔۔۔ میں نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور بولا کہ ’’ آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔۔۔ ان باتوں کی طرف میرا دھیان دلانے کا شکریہ مگر  آپ یہ تو بتایئے کہ آپ ہیں کون ۔۔۔۔   ؟  میں نے پھر اپنا سوال دھرایا  ۔۔۔
میں تمہارا ضمیر ہوں  اور ڈرواس وقت سے کہ جب میں بھی خاموش ہو جاؤں اور تمہیں جھنجھوڑنے والا کوئی نہ رہے     ۔
اسی طرح ہمارا ضمیر بھی بعض اوقات اسی طرح دبے دبے لفظوں  میں صدائیں دیتا ہے۔