Wednesday, October 25, 2017

امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان کی مختصر سوانح حیات


جب ہم اسلام پر اٹھنے والے طوفانوں اور آندھیوں  پرنظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ان میں سے ہر ایک کےآگے  کچھ ایسی ہستیاں دکھائی دیتے ہیں، جنہوں نے وارثینِ انبیائے کرام علیہم السلام ہونے  کا حق ادا کردیا۔ جنہوں نے علم وفن کی آبیاری کے ساتھ ساتھ فکروعمل اوراصلاح کو بھی زاویہ  ِنظر میں رکھا  اور ان طوفانوں اور آندھیوں کے آگے بند باندھتے چلے گئے ۔

ایسی ہی عظیم شخصیات میں ایک سنہرا نام اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ رحمۃ اللہ  القوی کا بھی ہے، جنہوں نے ہندوستان کی تاریخ کے ایسے خطرناک دور میں آنکھیں کھولیں، جب مسلمانانِ ہندکے دین و ایمان کے ساتھ ساتھ ان کی دنیاوی حشمت و شوکت پربھی چہار جانب سے  تابڑ توڑ حملے ہورہے تھے۔

خصوصًا  وجہِ تخلیقِ کائنات  شہنشاہ موجودات صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ذات ستودہ صفات کی شان و عظمت پر ڈاکے ڈالنے کی کوششیں کی گئیں،ایسے پر فتن حالات میں آپ نے کہیں" تدبیر ِ فلاح ونجات "جیسے رسائل لکھ کر مسلمان کی تنزل کی وجوہات اور ان کے تدارک کا طریقہ بتایا توکہیں ان کے ایمان بچانے کے لئے ،سلّ السیوف الہندیہ الخ،سبحٰن السبوح الخ ،قھر الدیان الخ،جیسے اور بہت سے رسائل لکھ کر ان کے دین و ایمان کا تحفظ فراہم کیا ،پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے شان میں بہت سے رسائل لکھ کرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عشق رسول کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ علوم و فنون کی کھیتی کوبھی  سر سبز کیا، مسلمانوں میں ہمت و جرأت کی روح پھونکی اور اسلام کی صحیح تصویر پیش فرماکر اسلامی قوانین کی بالادستی برقرار فرمائی ۔

امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت  رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی پیدائش 10 شوال المکرم  1272ھ  مطابق 14 جون  1856ء کو بروز ہفتہ بریلی شریف کے ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جو علم و فضل، تقوی و طہارت اور قوت و بہادری میں مشہور تھا۔ آپ کے جدِّاعلیٰ محمد سعید اﷲ خان قندھار افغانستان سے لاہور تشریف لائے اور لاہور سے دہلی منتقل ہوئے۔ اعلی حضرت کے جدِّحقیقی یعنی دادا جان حضرت مولانا رضا علی خان صاحب علیہ الرحمہ بریلی میں ایک عرصہ تک منصب افتاء پر فائز رہے ۔ آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے رئیس المتکلمین  حضرت علامہ نقی علی خان علیہ الرحمہ نے یہ منصب سنبھالا، آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنے وقت  کے بہت بڑے مفتی ہونے کے ساتھ ساتھ کئی کتابوں کےمصنف بھی تھے ۔

 اس طرح کےدینی ، علمی اور روحانی فضل و کمال سے مالا مال گھرانے کے  فرد ہونے کی بنا پر علم و فضل اور تقوی و پرہیزگاری،عشق رسول  اعلی حضرت علیہ الرحمہ کو ورثے میں ملا، آپ نے  تعلیم کا بیشتر حصہ اپنے والد محترم حضرت علامہ نقی علی خان علیہ الرحمہ کے پاس حاصل کیا۔ آپ رضی اللہ تعالی بہترین قوت حافظہ والے کمال کے ذہین تھے، تیرہ سال دس ماہ چار دن کی عمر میں تمام علومِ مروّجہ کی سندِ فراغت سے نواز دئیے گئے اور اسی دن مسئلہ رضاعت پر پہلا فتو ٰی لکھا جسے دیکھ کر آپ کے والد ماجدنے اسی دن مسند افتاء کی ذمہ داری آپ کو سونپ دی،جسے آخری عمر تک بحسن و خوبی انجام دیتے رہے ،

1294ھ 22 سال کی عمر میں اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ہمراہ  ضرت سید شاہ آلِ رسول مارہروی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی بارگاہ میں بیعت ہونے کیلئے حاضر ہوئے تو حضرت  نے بغیر کسی امتحان و آزمائش کے داخلِ طریقت بھی فرمایا اور ساتھ ہی آپ اور آپ کے والد ماجد کو اجازت و خلافت سے بھی نواز دیا۔

اس پر کسی نے حضرت شاہ اٰل رسول رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت سراپااقدس میں عرض کی :''حضور! آپ کے یہاں تو ایک لمبے عرصے تک مجاہدات وریاضات کے بعد خلافت واجازت مرحمت کی جاتی ہے ،پھر کیا وجہ ہے کہ ان دونوں (یعنی مولانا نقی علی خان اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما )کو بیعت کرتے ہی خلافت عطا فرمادی ؟''اِرشاد فرمایا:''اورلوگ زنگ آلود میلاکچیلا دل لے کر آتے ہیں ،اس کی صفائی وپاکیزگی کے لئے مجاہداتِ طویلہ اور ریاضات شاقہ کی ضرورت پڑتی ہے ،یہ دونوں حضرات صاف ستھرا دل لے کر ہمارے پاس آئے ان کو صرف اِتصالِ نسبت کی ضرورت تھی اور وہ مُرید ہوتے ہی حاصل ہوگئی ۔''

 علوم و فنون کی کثرت امام احمد رضا کی شان امتیاز ہے چنانچہ ایک اندازے کے مطابق پچاس سے زائد علوم و فنون پر آپ کو نہ صرف عبور حاصل تھا بلکہ پچاس سے زیادہ علوم و فنون میں آپ کی تصنیفات موجود ہیں ۔ آپ کی تصنیفات کی تعدادتقریباً ایک ہزار ہے۔جن کا شاہکار فتاوی رضویہ مخرجہ 30 ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔

 اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی محبت ،صحابہ و اہل بیت کا ادب بصورت شاعری دیکھنا ہو تو حدائق بخشش بہترین کلام ہے۔

آپ نے اپنے آبا و اجداد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اسلام مخالف تمام تحریکوں اور اسلام کے دشمن عناصر کا تعاقب کیا

معاشیات اور اقتصادیات میں آپ کے نظریات آئیڈیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بینک کاری اور بلاسودی نظام اقتصادیات کے حوالہ سے امام احمد رضا کی فکر قابل تقلید ہے ۔سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے صرف اقتصادی نظریات ہی پیش نہیں کئے ہیں، بلکہ عصر حاضر میں اقتصادی بحران کا مضبوط اور مستحکم لائحہ عمل پیش فرمایا ہے۔

تقوی و پرہیز گاری، اتباعِ شریعت اور سنت نبوی ﷺ پر عمل ایسا تھا کہ عمر کے آخری ایام میں بھی نماز باجماعت کا التزام فرماتے تھے، سخت بیمار ہونے کے باجود کبھی جماعت ترک نہ کی، سنن قبلیہ و بعدیہ پر بھی ہمیشہ پابندی فرمائی ۔

 زہد و قناعت، توکل و اخلاص اس حد تک تھا کہ کبھی کسی سے اپنی ذات کیلئے کوئی مطالبہ نہیں فرمایا، حرص و طمع ، دنیاوی جاہ و حشمت سے بیزار رہ کر دین کی خدمت کی۔ آباء و اجداد سے ورثے میں ملنے والی جاگیروں سے جو کچھ ملتا تھا اسی پر اکتفا فرمایا۔ بلکہ جود و سخا اس قدر تھی کہ مال آتے ہی ضرورت مندوں میں خرچ کردیا کرتے تھے، غریبوں کیلئے ہند اور بیرون ہند ماہانہ وظیفہ مقرر کر رکھا تھا، موسم سرما میں لوگوں میں رضائیاں تقسیم کرواتے، کبھی کسی نے کوئی  چیز مانگ لی توفوراً عطا فرمادیتے تھے۔

ایمان و یقین کا حال یہ تھا کہ ہمیشہ جبل استقامت اور پیکرِصبر و رضا نظر آئے، حوادثات و مصائب کی آندھیاں چلیں، حق گوئی کی وجہ سے مخالفتیں ہوئیں، گالیوں سے بھرے خطوط بھیجے گئے، مگر آپ کےارادوں میں لغزش نہ آئی۔ ہمیشہ وہی لکھا اور وہی کہا جو قرآن و سنت کا حکم تھا۔

محبت رسولﷺ سے آپ کا دل اس طرح لبریز تھا کہ رسول اﷲﷺ کی شان میں گستاخی کا شائبہ بھی برداشت نہیں فرمایا۔ امر بالمعروف  اور نہی عن المنکر کا ایسا سچا جذبہ تھا کہ کبھی دینی مسئلے میں قریبی سے قریبی شخص کی رعایت نہیں فرمائی ۔

 مزارات وغیرہ پر جاہل لوگوں کی طرف سے کی جانے والی بدعات و خرافات سے سخت بیزاری اظہار فرماتے، مزارات پر عورتوں کی حاضری ناپسند فرماتے بلکہ آپ نے اسلامی معاشرہ میں پھیلی ہوئی ہر قسم کی برائیوں کو روکنے کی بھرپور کوشش فرمائی ، انھیں کارناموں کی وجہ سے اس وقت کے بڑے بڑے علماء و فقہاء نے آپ کوزمانے کا  ’’مجدد‘‘  قرار دیا ۔

25 صفر المظفر بروزجمعہ 1340ھ مطابق 28 اکتوبر1921ء کو آپ اس دار فانی سے رحلت فرماگئے لیکن آپ کے آثار علمیہ قیامت تک کیلئے امت مسلمہ کے لئے قیمتی اثاثہ بن کرآپ کا وقار بلند کرتے رہیں گے اور لاکھوں گمراہوں کےلیے باعث ِہدایت و رہنمائی ثابت ہوں گے   ؎

تم  کیا  گئے  کہ  رونقِ  محفل  چلی  گئی
شعر و ادب کی زلف پریشاں ہے آج بھی

اللہ تعالیٰ ان پر کروڑوں رحمتوں کانزول فرمائے اور ان کے صدقے ہماری بلا حساب مغفرت فرمائے  آمین۔