Monday, October 23, 2017

دو چچازاد بھائیوں کا دلچسپ واقعہ


’’ سر ۔۔۔ امجد  سلیم کو کام کرتے ہوئے ہارٹ اٹیک ہو گیاہے ۔‘‘ فیکٹری کےمالک جنید  صاحب کوان کےمینیجرالیاس نےاطلاع دی ۔

اب سےتقریباًدو گھنٹےپہلےسر ۔ یہ کب ہوا اور اب کہاں ہےوہ؟ جنید صاحب نےبےقراری سےپوچھا
اسےفوری ہسپتال بھیج دیاگیاہے ۔اس کےگھروالوں کومیں نےفون کر دیا ہے۔ بس اللہ رحم فرمائے سر ۔۔۔ اس کا کوئی بیٹابھی نہیں ہے ، اکیلا کمانے والا ہے

 ابھی کل ہی بتارہا تھا  کہ مالک مکان اچانک مکان خالی کرنے کا کہہ گیا ہے۔  ابھی تک کسی دوسرے مکان کا انتظام نہیں ہوا تھا ۔ ڈر رہا تھا کہ  اگر اس نے سب کو گھر سے باہر نکال کھڑا کیا تو وہ کہاں جائیں گے ۔ اس کا کوئی قریبی رشتہ دار بھی نہیں ہے ۔  شاید یہی پریشانی دل کے دورے کا سبب بنی ہو۔‘‘مینیجر الیاس اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا۔

تم نے مجھے پہلےکیوں نہیں بتایا   ۔۔۔ ؟ جنید صاحب افسردگی سے بولے ۔

  خیر چلو میرے ساتھ۔ یہ کہہ کر وہ فوراً ہی کرسی سے اٹھے اور گاڑی لے کر ہسپتال پہنچ گئے شکیل کو ہوش آچکا تھا۔

جنید صاحب نے حال چال پوچھنے کے بعد امجد سے کہا  : آرام کیجئے  ،  آپ کی تنخواہ آپ کے گھر پہنچ جائے گی ۔ آپ کےمکان کا انتظام بھی ہو گیا ہے، آج ہی آپ اس مکان میں شفٹ ہو رہے ہیں۔ آپ کا سامان وہاں پہنچ جائے گا اور گھر والوں کی طرف سے بے فکر رہیے گا، انکی ہر ضرورت کا خیال رکھا جائے گا۔

 یہ کہہ کر انھوں نے ایک ملازم کو اس کے پاس چھوڑا اور فیکٹری کی طرف روانہ ہو گئے۔
 انکے مینیجر جنید صاحب کی خدا ترسی اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے اچھی طرح واقف تھے مگر امجد کے معاملے میں انکی غیر معمولی دلچسپی انکی سمجھ سے بالاتر تھی ۔

فیکٹری کے مالک بہت نیک اور سخی آدمی ہیں ۔انھوں نےمکان بھی دیا ، 20 ہزار روپے اور بہت سارا سامان بھی گھر بھیج دیا ۔ دنیا ابھی نیک لوگوں سے خالی نہیں ہے‘‘امجد کی بیوی ہسپتال میں  امجد سے کہہ رہی تھی ۔۔۔

امجد کہیں دور خلاؤں میں گھورتے ہوئے بولا۔۔۔ تم جانتی ہو وہ کون ہے ۔۔۔  ؟

کون ہیں ۔۔۔۔ ؟
وہ میرے چچا کا بیٹا ہے، چچی اس کے بچپن میں ہی فوت ہوگئی تھیں۔ جب چچا فوت ہوئے تو بابا نے اسے جوانی میں گھر سے نکال کر اس کے حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور اسکو گھر سے نکالنے میں سب سے زیادہ ہاتھ میرا تھا اور میں اپنے کیے  کی سزا بھگت چکا ہوں بلکہ بھگت رہا ہوں ۔

شکر کریں انھوں نے آپ کو پہچانا نہیں ورنہ آپ اتنی اچھی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتے اور اتنے اچھے لوگوں سے بھی ،جنہوں نے ہر موقعے پر ہمارا ساتھ دیا۔

ہاں! پہچان لیتا تو اپنی فیکٹری میں ملازمت ہی کیوں دیتا اسی وقت دھکے دے کر باہر نکال دیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معاف کیجئے گا سر میں نے آپ کو ڈسٹرب کیا۔مینیجر  آفس میں داخل ہوتے ہوئے بولے۔

بولو  ۔۔۔ !جنید صاحب نے اخبار سے نظریں ہٹا تے ہوے بولا

میں جانتا ہوں سر کہ آپ غریبوں کی مدد کر نے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ مگر امجدکےمعاملےمیں آپکی غیرمعمولی دلچسپی سےلگتا ہےکہ آپ کےاوراس کےدرمیان کوئی خاص بات ہے۔

جنید صاحب  نے نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا

سوری سر! آپ مجھ سےہر بات کھل کر کرلیتے ہیں،بس اسی لیئے میں پوچھ بیٹھا،  اورسر مجھے یاد پڑتا ہے ، چار سال پہلے جب امجد ملازمت لینے آیا تھا تو آپ اسے دیکھ کر چونکے تھے اور پھر کوائف پورے نہ ہونے کے باوجود آپ نے اسے ملازمت دے دی تھی۔

جنید صاحب کچھ دیر تک خاموشی سے ایک طرف تکتے رہے ۔پھر انکے لبوں میں جنبش ہوئی۔
دراصل امجد میرے چچا کا بیٹا ہے ۔جانتے ہو کس چچا کا؟‘‘ اتنا کہہ کر وہ سانس لینے کے لئے رکے۔ انکی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ کچھ دیر بعد وہ خود کو سنبھالتے ہوئے گویا ہوئے ۔

جنہوں نے مجھے میرے والدین کے مرجانے کے بعد  گھر سے نکال دیا تھا اور مجھے گھر سے نکالنے میں شکیل کا سب سے زیادہ ہاتھ تھا۔

میں بھی روز  کی مار  پیٹ  سے تنگ  تھا اس گھر میں نہیں رہنا چاہتا تھا۔سو میں نکل گیا نا معلوم منزل کی طرف۔  ہاں ۔۔۔ بگولے میں اڑجانے والے کاغذکی طرح یا کسی کٹی ہوئی پتنگ کی طرح جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔‘‘اتنا کہہ کر انہوں نے ٹھنڈی آہ بھری ۔کچھ دیر تک وہ خاموش رہے ، پھر ایک سمت میں نظریں جمائے کہنے لگے

قدرت کے کام بہت انوکھے اور عجیب ہوتے ہیں۔ ہماری ناقص عقل انھیں دیکھنے سے قاصر ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ جہاں ہماری عقل کی انتہا ہوتی ہے، وہاں سے قدرت کے کاموں کی ابتدا ہوتی ہے۔مجھے میرے رب نے اچھا ٹھکانہ بھی دیا،اعلیٰ تعلیم بھی اور بہترین کاروبار بھی۔ مختصراً بتا دیتا ہوں کہ اعلیٰ خاندان کے ایک نیک آدمی کے ہاتھ لگ گیا تھا اور اللہ کی مہربانی سے آج اس مقام پر ہوں۔‘‘ اتنا کہہ کر انہوں نے مینیجر کی طرف دیکھا جو دنیا سے بے خبر ان کی داستان سننے میں مگن تھا۔

مجھے گھر سے نکالنے کے تقریباً پانچ سال بعد میرے بڑے چچا فوت ہو گئے۔تو اسکے کچھ عرصے بعد میرے دوسرے چچا نے امجد اور اسکی والدہ کو بالکل اسی طرح دھکے دے کر گھر سے نکال دیا۔  پھر انہوں نے بڑی مشکل سے کرائے پر گھر حاصل کیا۔گھر میں غربت نے ڈیرے ڈال دیے اور اب جہاں تک میرا خیال ہے شکیل یہ سمجھتا ہے کہ میں نے اسے نہیں پہچانا مگر میں اسے کبھی نہیں بھول سکتا ۔۔۔

یہاں تک کہہ کر انھوں نے مینیجر کی طرف دیکھااور بھر پور انداز میں مسکرا دیےاور ادھر مینیجر حیرت سے منہ کھولے جنید صاحب کو تکتا رہ گیا ۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
جو تم سے ناطہ توڑے تم اس سے جوڑو،جو تمہیں محروم کرے اُسکو عطا کرو اورجو تم پر ظلم کرے تم اُسے معاف کرو۔

(مسند احمد بن حنبل ، ج6،ص148،رقم 126)