Friday, October 6, 2017

قوسِ قزح (رینبو) سے متعلق دلچسپ معلومات

اس دنیا میں انسان جتنا بھی غور کرتا جائے   اس کو اس بات کا اندازہ ہوتاچلا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی آنکھ کو فرحت بخشنے والی نعمتیں بھی عطاکی ہیں جو اس دنیا میں موجود نظاروں کوحسین سےحسین تربنادیتی ہیں ، اس پوری کائنات کوہزاروں، لاکھوں یا کروڑوں نہیں بلکہ بےحد وبے شمار شاہکاروں سے نوازاہے جسے دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔

ان حسین شاہکاروں  میں سے ایک قوس قزح بھی ہے جسے اردو میں دَھنَک (رینبو) بھی کہتے ہیں ۔ لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ دھنک (رینبو) کے رنگ بارش کے بعد  پیدا ہوتے ہیں۔ جبکہ حقیقت کچھ یوں ہے کہ ہروہ جگہ جہاں پانی کی بوندوں کاٹکراؤسورج کی کرنوں سے ہووہاں قوس قزح دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ اکثر سات رنگ کی ہوتی ہے مگر ماحول کے لحاظ سے کم زیادہ بھی نظر آسکتے ہیں۔

لوگوں میں یہ بھی مشہور ہے  کہ یہ نصف دائرے کی شکل میں ہوتا ہے جبکہ اس کی حقیقی شکل مکمل دائرہ ہے۔ لیکن زمین پر موجود انسان اس کا اوپری حصہ یعنی نصف دائرہ ہی دیکھ سکتا ہے جبکہ اونچائی پر موجودانسان اس کو مکمل شکل  میں دیکھ سکتا ہے۔آبشاروں کے نزدیک اس کی اصل شکل دیکھی جا سکتی ہے۔

جیسے کہ دنیا کے مشہور ترین آبشار ’’نیاگرا‘‘ کے قریب واقع ہوٹلوں کی اونچائی سےقوسِ قزح کو مکمل دائرے کی صورت میں دیکھاجاتا ہے ۔دنیا میں سب سے زیادہ دورانیے تک دیکھا جانے والاقوس قزح14مارچ1994 کو صبح9بجے سے سہ پہر 3 بجے تک انگلینڈمیں دیکھا گیا۔

دو قوسِ قزح بیک وقت بھی دیکھے جاتے ہیں کیونکہ سورج کی کرنیں پانی کی بوندوں سے گزر تے ہوئے قوسِ قزح کی شکل اختیار کرلیتی ہیں مگر وہی کرنیں جب مزید بوندوں سے گزرتی ہیں تواس سے آسمان پر ایک اور قوس ِقزح ابھرتا ہے۔ بالکل اسی طرح سورج کی کرنیں پانی کی بوندوں سے جتنی زیادہ گزرتی جا ئیں گی اتنے زیادہ قوس قزح بنتے جائیں گے جو مختلف زاویوں سے دیکھنے والوں کو مختلف رنگوں  میں  نظر آئیں گے ۔

جس طرح سورج کی روشنی پانی سے ٹکراتی ہے بالکل اسی طرح چا ند کی رو شنی بھی پانی سے ٹکراکرقوس قزح بناتی ہے  لیکن چونکہ چا ند کی روشنی سورج کی روشنی کی نسبت کم فا صلے پر ہوتی ہے اس وجہ سے عام طور پر ہم اسے دیکھ نہیں پاتے اور یہ دھنک (رینبو)  اکثر رات کے اندھیرے کی وجہ سےسرمئی رنگ میں نظر آتی ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ ہر انسان قوس قزح کو مختلف انداز میں دیکھتا ہے حتیٰ کہ دولو گ اگر ساتھ کھڑے ہوں تو وہ دونوں بھی اپنے زاویے اور مقام  کے مختلف ہونے کی وجہ سے قوس قزح کو الگ الگ  شکل و رنگ میں دیکھ سکتے ہیں  ۔

اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ  نے  انسان کو لا تعداد نعمتوں سے نوازا ہے جن کا شمار کرناانسان کے لیے نا ممکن ہے اور  ہم اپنی زندگی میں صبح و شام ان کا استعمال کررہےہوتے ہیں ۔

ایک مسلمان ہونے  کا تقاضیٰ یہ ہےکہ  جو نعمتیں ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے  دی گئیں   ان کا شکر بھی ادا کیا جائے  لھذا  ہمیں چاہئے کہ ہم ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر اد ا کریں  اور  اس کےطرف سے دئیے گئے  احکامات  پر عمل پیرا رہتے ہوئے  اپنی زندگی گزاریں