Friday, November 3, 2017

تین عظیم سخی

 
ایک مرتبہ حضرت امام حسن، حضرت امام حسين اور حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہم حج کے لئے تشريف لے جا رہے تھے کہ  راستے ميں اپنے سامان سے بچھڑ گئے ۔

چلتے چلتے جب  بھوک اور پياس محسوس ہوئی اس دوران ايک بوڑھی عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے خیمہ ميں تھی ، اس بورھیا سے فرمايا : پينے کے لئے کچھ ہے۔۔۔ ؟ اس نے عرض کی جی ہاں،

 وہ سواريوں سے اترے تو دیکھا کہ اس کے پاس صرف ايک چھوٹی سی بکری تھی۔ اس خاتون نے کہا اس کا دودھ  نکال کر نوش فرماليں۔ چنانچہ ان تينوں حضرات نے اسی طرح کيا پھر اس عورت سے فرمايا کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا اس بکری کے سوا کچھ نہيں آپ ميں سے کوئی ايک اسے ذبح کردے تاکہ ميں آپ کے کھانے کے لئے اسے تيار کروں۔

 تينوں حضرات ميں سے ايک کھڑے ہوئے اور اسے ذبح کرکے اس کی کھال اتاری پھر اس نے ان کے لئے کھانا تيار کيا تينوں حضرات نے کھايا اور دھوپ کی شدت کم ہونے تک ٹھہرے رہے جب جانے لگے تو فرمايا ہم قريش کے لوگ ہيں حج کے لئے جارہے ہيں اگر صحيح سلامت واپس آگئے تو ہمارے پاس آنا ہم تم سے اچھا سلوک کريں گے، پھر چلے گئے۔

 اس عورت کا خاوند آيا تواس نے ان حضرات اور بکری کا معاملہ ذکر کيا اس شخص کو غصّہ آيا اس نے کہا تو نے ان لوگوں کے لئے بکری ذبح کرڈالی جن کے بارے ميں تجھے کوئی علم نہيں کہ کون ہيں پھر تو کہتی ہے کہ وہ قريش کے کچھ لوگ تھے۔
    راوی کہتے ہيں پھر کچھ مدت کے بعد ان دونوں مياں بيوی کو مدينہ طيبہ جانے کی ضرورت پڑی وہ وہاں پہنچے اور اونٹوں کی مينگنياں بیچ کر گزارہ کرنے لگے۔

 وہ خاتون مدينہ طيبہ کی ايک گلی سے گزر رہی تھی تو حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی ٰعنہ اپنے گھر کے دروازے ميں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے اس عورت کو پہچان ليا لیکن وہ آپ کو پہچان نہ سکی۔

 آپ نے غلام کو بھيج کر خاتون کو بلوايا اور فرمايا اے اللہ کی بندی! مجھے پہچانتی ہو؟ اس نے عرض کيا نہيں۔ فرمايا ميں فلاں فلاں دن تمہارے پاس مہمان تھا بوڑھی عورت نے کہا ميرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ وہی ہيں؟ فرمايا ہاں،

 پھر حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم ديا تو صدقہ کی بکريوں ميں سے ايک ہزار بکرياں خريد کر اور مزید ايک ہزار دينار اسے دے کر اپنے غلام کے ہمراہ حضرت امام حسين رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھيجا۔

انہوں نے پوچھا ميرے بھائی نے تمہيں کيا ديا؟ اس نے عرض کيا ايک ہزار بکرياں اور ايک ہزار دينار۔ حضرت امام حسين رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اتنا مال دينے کا حکم ديا پھر اسے اپنے غلام کے ہمراہ حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھيجا ۔


 حضرت عبد اللہ بن جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے دو ہزار بکرياں اور دو ہزار دينار دئيے اور فرمايا اگر تم پہلے ميرے پاس آتيں تو ميں تمہيں اتنا ديتا کہ ان دونوں کے لئے مشکل ہوجاتا۔ وہ خاتون چار ہزار بکرياں اور چار ہزار دينار لے کر اپنے خاوند کی طرف واپس آئيں۔
(إحياء علوم الدين ، حکايات الأسخياء،ج4، ص333 )