Monday, November 27, 2017

خندق کھودنے کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ

             
  سعید بن میناء کا بیان ہے کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب خندق کھودی جارہی تھی تو میں نے دیکھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سخت بھوک لگی ہے۔
                                
 میں اپنی بیوی کے پاس آکر کہنے لگا کہ کھانے کی کوئی چیز ہے؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سخت بھوک کی حالت میں دیکھا ہے۔ اس نے بوری نکالی تو اس میں تھوڑےسے  جَو تھے اور ہمارے پاس بکری کا ایک بچہ تھا۔ میں نے بکری کا بچہ ذبح کیا اور بیوی نے جو پیس لئے۔ میں نے گوشت کی بوٹیاں 
بناکر انہیں ہانڈی میں ڈال دیا۔
                      
  جب میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہونے کی خاطر جانے لگا تو بیوی نے کہا، کہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھیوں کے سامنے شرمسار نہ کردینا ۔
                          
  میں نے حاضرِ خدمت ہوکر سرگوشی کے انداز میں عرض کی، یا رسول اللہ! ہم نے بکری کا ایک بچہ ذبح کیا ہے اور ہمارے پاس ایک صاع جو کا آٹا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم چند حضرات کو ساتھ لے کر تشریف لے چلیں۔
                       
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بآواز بلند فرمایا کہ اے خندق والو! جابر نے تمہارے لئے دعوت کا بندوبست کیا ہے لہٰذا آؤ چلو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میرے آنے تک ہانڈی نہ اتارنا اور روٹیاں نہ پکوانا۔
                 
  حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لے آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم لوگوں کے آگے آگے تھے۔ جب میں گھر گیا تو بیوی نے گھبرا کر مجھ سے کہا کہ آپ نے تو میرے ساتھ وہی بات کردی جس کا خدشہ تھا۔ میں نے کہا کہ تم نے جو کچھ کہا۔ وہ میں نے عرض کردیا تھا۔
               
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ( تشریف لائے اور )  آٹے میں لعاب دہن ڈالا اور برکت کی دعا مانگی۔ پھر ہنڈیا میں لعاب دہن ڈالا اور دعائے برکت کی۔ اس کے بعد فرمایا کہ روٹی پکانے والی ایک اور بلا لو تاکہ میرے سامنے روٹیاں پکائے اور تمہاری ہانڈی سے گوشت نکال کر دیتی جائے اور فرمایا کہ ہانڈی کو نیچے نہ اتارنا۔
                         
کھانے والوں کی تعداد ایک ہزار تھی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم، سب نے کھانا کھا لیا یہاں تک کہ سارے پیٹ بھر   کر چلے گئے اور کھانا بچ بھی گیا ۔ دیکھا گیا تو ہانڈی میں اتنا ہی گوشت موجود تھا جتنا پکنے کے لئے رکھا تھا اور ہمارا آٹا بھی اتنا ہی تھا جتنا کہ پکانے سے پہلے تھا۔
(صحيح بخاري ؛ 4 /1505، رقم:  3876 )