Wednesday, December 20, 2017

نکاح ِعلیّ و فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما قسط نمبر ایک



    ایک دن حضرتِ  ابوبکرصدیق ،حضرتِ عمر فاروقِ اعظم  اورحضرتِ سیِّدُنا سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہم مسجد ِنبوی شریف میں تشریف فرما تھے کہ حضرت  فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کا ذکر ِ خیر چل نکلا  ۔

توحضرتِ  ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''تمام معزّز ین نے پیغامِ نکاح عرض کیااور آپ ﷺ نے انکار کرتے ہوئے یہی ارشادفرمایا:''یہ معاملہ اللہ تعالیٰ  کے ذمۂ کرم پر ہے۔'' لیکن حضرتِ علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے پیغامِ نکاح عرض نہیں کیااور نہ ہی اس کا تذکرہ کیا۔

میرا خیال ہے کہ انہوں نے غربت کے سبب ایسا نہیں کیا۔میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول ﷺنے حضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا معاملہ شاید اسی لئے روکا ہوا ہے۔''

 پھرحضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرتِ  عمر فاروق اورحضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہما  کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: ''آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں کہ ہم حضرتِ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ، الْکَرِیْم کے پاس چلیں اوران سے شہزادئ رسول ﷺ کا معاملہ ذکرکریں، اگر انہوں نے تنگ دستی کی وجہ سے انکار کیا توہم ان کی مدد کریں گے۔''

 حضرتِ سیِّدُناسعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ''اے ابو بکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! اللہ تعالیٰ  آپ کو ا س کام کی توفیق عطا فرمائے۔''  پھر یہ سب مسجد ِنبوی شریف علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے نکل کرحضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ، الْکَرِیْم کی تلاش میں مسجدجا پہنچے لیکن انہیں وہاں نہ پایا۔

( پھرجب پتہ چلاکہ ) حضرتِ سیِّدُنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت کسی انصاری کے باغ میں اجرت پر اونٹوں کے ذریعے پانی نکالنے میں مصروف ہیں تویہ تینوں صحابی ان کی جانب چل دیئے۔ جب حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ، الْکَرِیْم نے ان سب کو دیکھا توپوچھا:''کیا معاملہ ہے ؟''

    حضرتِ سیِّدُناابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''اے علی! (بات یہ ہے کہ) قریش کے معزّزین نے بنتِ رسول ﷺ کے لئے پیغامِ نکاح دیا لیکن آپ ﷺ نے یہ کہہ کر لوٹا دیاکہ''یہ معاملہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے ۔''اور( ہم دیکھتے ہیں کہ) آپ ہر اچھی عادت سے کامل طور پر متَّصف ہیں اور حضور سیِّد ِ عالم ﷺ کے قرابت دار بھی ہیں توآپ کے لئے اس میں کیا رکاوٹ ہے۔۔۔ ؟ مجھے امید ہے کہ اللہ و رسول عزوجل و ﷺ نے ان کا معاملہ آپ کے لئے روکا ہوا ہے۔''

راوی فرماتے ہیں: ''حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ، الْکَرِیْم کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور عرض کی :''اے ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! آپ نے مجھے ایسے کام پر ابھارا ہے جو رکا ہوا تھا اور مجھے ایسے کام کی طرف متوجہ کیا جس سے میں غافل تھا، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!مجھے شہزادئ سرورِکونین ﷺ و رضی اللہ تعالیٰ عنہا پسند ہیں اور ایسےرشتے کے لئے میرے جیسااور کوئی نہیں لیکن غربت نے مجھے اس سے روک رکھا ہے۔''

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''اے علی! ایسا نہ کہو ! اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک دنیااور جو کچھ اس میں ہے ، اُڑتے غبار کی مانند ہے ۔''  پھرحضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ الْکَرِیْم نے اونٹ کھولا اور ۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔