Wednesday, December 27, 2017

نکاح ِعلی و فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما قسط نمبر سات

    

حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہیں: '' جب مہینہ گزر گیاتو میرے بھائی حضرتِ عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے:'' اے میرے بھائی! آج تک میں اتنا خوش نہیں ہوا جتنا یہ سن کر خوش ہوا کہ تمہاری شادی بنتِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہو گئی ہے،اب اگرآپ ان کو اپنے گھر بھی لے آئیں تو اس سے ہمارے دل خوش ہوں گے ۔''

میں نے جواب دیا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں بھی یہی چاہتا ہوں،لیکن مجھے سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے شرم آتی ہے۔''انہوں نے کہا:'' میں اپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ چلیں۔''

لہٰذا ہم آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں ملاقات کے ارادے سے گھر سے نکلے تو راستے میں ہماری ملاقات آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خادمہ حضرت اُمِّ اَیمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوگئی۔

 ہم نے ان سے تذکرہ کیا تو کہنے لگیں :'' ذرا انتظار کریں،ہم عورتیں اپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے حضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق بات کرتی ہیں کہ( ان معاملات میں )مردوں کی نسبت عورتوں کی باتیں زیادہ مؤثر ہوتی ہیں۔''

وہ واپس مڑکرحضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئیں اور انہیں اور پھر دوسری ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کو ساری بات بتائی تو سب اُمّہاتُ المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ن اکٹھی ہو کر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرۂ مبارکہ میں حاضر ہوئیں

اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے چاروں طرف بیٹھ کر عرض کی: ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ہمارے ماں باپ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر قربان! ہم ایک اہم معاملے میں اپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس حاضر ہوئی ہیں، کاش! اگر آج حضرتِ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زندہ ہوتیں تو اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں۔
    
حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:'' جب ہم نے حضر تِ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا تذکرہ کیا توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم آب دیدہ ہو گئے اور

 ارشاد فرمایا :'' خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی مثل کون ہو سکتا ہے؟اس نے میری اس وقت تصدیق کی جب سب نے مجھے جھٹلادیا اور اپنے مال سے میرے دین و دنیا کے معاملات میں میری امداد کی۔''

توحضرتِ سیِّدَتُنا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: '' یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! ہاں! واقعی حضرتِ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایسی ہی تھیں مگر وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس جا چکی ہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ یقینا ہمیں ان کے ساتھ جنت میں جمع فرمائے گا۔

 آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے چچا زاد اور دینی بھائی حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہااپنی بیوی حضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی رخصتی چاہتے ہیں۔''

توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حکم فرمایا: '' اُمِّ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو بلانے کے لئے بھیج دو۔''حضرتِ اُمِّ اَیمَن رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب نکلیں اور حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنامنتظر پایا تو ان سے عرض کی:'' حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بلاوے پرلبیک کہیں۔
   
حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ، الْکَرِیْم فرماتے ہیں:'' جب میں اُمِّ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا

تو تمام ازواجِ مطہّرات رضی اللہ تعالیٰ عنہ ن اندر کمرے میں تشریف لے گئیں،میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سامنے سر جھکا کر بیٹھ گیاتوآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسار فرمایا کہ ۔۔۔


جاری ہے ۔۔۔۔