Thursday, December 28, 2017

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مختصر تعارف


سرکارِبغدارحضورِغوث پاک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کااسم مبارک عبدالقادر ، کنیت  ابومحمد اورالقابات محی الدین،محبوبِ سبحانی ،غوثُ الثقلین،غوثُ الاعظم وغیرہ ہیں،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یکم رمضان المبارک 470ھ میں بغدادشریف کے قریب قصبہ جیلان میں پیدا ہوئے ۔

  
  آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا خاندان صالحین کاگھراناتھا ، اسی وجہ سے لوگ آپ کے خاندان کواشراف کا خاندان کہتے تھے۔  آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والدمحترم  کا اسم گرامی سیّدموسیٰ کنیت  ابوصالح اورلقب  جنگی دوست  تھا،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جیلان شریف کے مشائخ کرام رحمہم اللہ میں سے تھے۔

حضرت شیخ ابو محمد عبداللہ بن احمد بن قدامہ مقدسی فرماتے ہیں کہ ہمارے امام شیخ الاسلام سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ضعیف البدن،میانہ قد،فراخ سینہ،چوڑی داڑھی  ، درازگردن،رنگ گندمی،ملے ہوئے ابرو، سیاہ آنکھیں،بلند آواز،اور بڑے علم و فضل والے تھے۔

    
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے  والد ماجد  نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادت کی رات مشاہدہ فرمایا کہ سرور کائنات ﷺ بمع  صحابہ کرام اور اولیاء عظام رضی اللہ تعالیٰ عنہم  اِن کے گھر جلوہ افروز ہیں اور ان کو اس بشارت سے نوازا: ’’اے ابو صالح !اللہ تعالیٰ  نے تم کو ایسا فرزند عطا فرمایا ہے جو ولی ہے اوروہ میرا اور اللہ  تعالیٰ  کا محبوب ہے اور اس کی اولیاء اور اَقطاب میں ویسی شان ہوگی جیسی انبیاء اور مرسلین علیہم السلام میں میری شان ہے۔''

  
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے  فرزندسیدنا عبدالوہاب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' حضورسیدناشیخ عبدالقادرجیلانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے521ھ سے 561ھ تک چالیس سال مخلوقِ خدا کو وعظ و نصیحت فرمائی۔

   
شیخ یحیی صحراوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے  والدفرماتے ہیں کہ ''میں نے ایک دفعہ عمل کے ذریعے جنات کو بلایا تو انہوں نے کچھ زیادہ دیر کر دی پھر وہ  آئے اور کہنے لگے کہ'' جب شیخ سید عبدالقادر جیلانی بیان فرما رہے ہوں تو اس وقت ہمیں بلانے کی کوشش نہ کیا کرو۔'' میں نے کہا وہ کیوں؟'' انہوں نے کہا کہ ''ہم حضورغوث اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں۔'' میں نے کہا:'' تم بھی ان کی مجلس میں جاتے ہو۔'' انہوں نے کہا :''ہاں! ہم مردوں میں کثیرتعدادمیں ہوتے ہیں ، ہمارے بہت سے گروہ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے اور ان سب نے حضورغوث پاک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے  ہاتھ پر توبہ کی ہے۔''

    
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کے علمی کمالات کے متعلق ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ'' ایک روز کسی قاری نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مجلس شریف میں قرآن مجید کی ایک آیت تلاوت کی تو آپ نے اس آیت کی تفسیر میں پہلے ایک معنی پھر دو اس کے بعد تین یہاں تک کہ حاضرین کے علم کے مطابق آپ نے اس آیت کے گیارہ معانی بیان فرمادیئے اورپھر دیگر وجوہات بیان فرمائیں جن کی تعداد چالیس تھی اور ہر وجہ کی تائید میں علمی دلائل بیان فرمائے اور ہر معنی کے ساتھ سند بیان فرمائی، آپ کے علمی دلائل کی تفصیل سے سب حاضرین متعجب ہوگئے۔''

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  کاوصال11ربیع الآخر 561ھ  بغدادشریف میں ہوا ،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزارِ پرانوارعراق کے مشہورشہربغدادشریف میں فیض عام  جاری رکھے ہوئے ہے۔


اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو،،، آمین ۔