Wednesday, December 13, 2017

تابوت ِ سکینہ میں کیا تھا ؟



یہ شمشاد کی لکڑی کا ایک صندوق تھا جو حضرت آدم علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ یہ آپ کی آخرِ زندگی تک آپ کے پاس ہی رہا۔ پھر بطور میراث یکے بعد دیگرے آپ کی اولاد کو ملتا رہا۔

یہاں تک کہ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو ملا اور آپ کے بعد آپ کی اولاد بنی اسرائیل کے قبضے میں رہا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مل گیا تو آپ اس میں توراۃ شریف اور اپنا خاص خاص سامان رکھنے لگے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہمانے فرمایا: تابوت سکینہ میں تبرکات موسویہ سے ان کا عصا تھااور تختیوں کی کرچیں تھیں ۔ 
( جامع البیان (تفسیر ابن جریر)   ۲/ ۳۶۶ )

وکیع بن الجراح وسعید بن منصور وعبد بن حمید وابن ابی حاتم وابوصالح تلمیذ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی، تابوت میں موسٰی وہارون علیہما الصلوٰۃ والسلام کے عصاء اور  دونوں حضرات کے ملبوس اور توریت کی دو تختیاں اور قدرے من کہ بنی اسرایل پر اترا اور دعائے کشائش لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم و سبحن اﷲ رب السموت السبح ورب العرش العظیم والحمدﷲ رب العالمین تھی  ۔
   ( تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم   ۲/۴۷۰)

معالم التنزیل میں ہے:تابوت میں موسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کا عصا اور ان کی نعلین اور ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عمامہ وعصا تھا ۔
( معالم النتزیل علی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ ۲/۲۴۸  مصطفی البابی مصر  ۱/ ۲۵۷ )

یہ بڑا ہی مقدس اور بابرکت صندوق تھا۔ بنی اسرائیل جب کفار سے جہاد کرتے تھے اور کفار کے لشکروں کی کثرت اور ان کی شوکت دیکھ کر سہم جاتے اور ان کے سینوں میں دل دھڑکنے لگتے تو وہ اس صندوق کو اپنے آگے رکھ لیتے تھے تو اس صندوق سے ایسی رحمتوں اور برکتوں کا ظہور ہوتا تھا کہ مجاہدین کے دلوں میں سکون و اطمینان کا سامان پیدا ہوجاتا تھا اور مجاہدین کے سینوں میں لرزتے ہوئے دل پتھر کی چٹانوں سے زیادہ مضبوط ہوجاتے تھے۔ اورجس قدر صندوق آگے بڑھتا تھا آسمان سے نَصْرٌ مِّنَ اللہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ کی بشارت عظمیٰ نازل ہوا کرتی اور فتح مبین حاصل ہوجایا کرتی تھی۔

    بنی اسرائیل میں جب کوئی اختلاف پیدا ہوتا تھا تو لوگ اسی صندوق سے فیصلہ کراتے تھے۔ صندوق سے فیصلہ کی آواز اور فتح کی بشارت سنی جاتی تھی۔

 بنی اسرائیل اس صندوق کو اپنے آگے رکھ کر اور اس کو وسیلہ بنا کر دعائیں مانگتے تھے تو ان کی دعائیں مقبول ہوتی تھیں اور بلاؤں کی مصیبتیں اور وباؤں کی آفتیں ٹل جایا کرتی تھیں۔ الغرض یہ صندوق بنی اسرائیل کے لئے تابوتِ سکینہ، برکت و رحمت کا خزینہ اور نصرتِ خداوندی کے نزول کا نہایت مقدس اور بہترین ذریعہ تھا۔
اسی صندوق کے بارے مولٰی سبحانہ تعالٰی فرماتاہے :

ترجمہ کنز الایمان : جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں معزز موسیٰ اور معزز ہارون کے ترکہ کی اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے بیشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لئے اگر ایمان رکھتے ہو ۔

( القرآن الکریم ۲/ ۲۴۸)

موسٰی علیہ السلام کے کے مبارک نعلین ایسی بابرکت ہیں تو پیارے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ آلہ وسلم کے نعلین کی کیا شان ہو گی  ۔۔۔۔ ؟