Saturday, January 6, 2018

مجھے امیر اہلسنت مکے میں نظر آئے


مقدّر  نے یاوری کی ، پھوٹے نصیب  جاگے ،   اللہ  تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے 
محبوب ﷺ کی نگاہ ِناز کے صدقے مجھے عمرہ کرنے کی سعادت ملی ۔

سو  ۔۔۔ تیاری کی اور عمرہ  کے  سفر  پر روانہ ہوا  ۔ ۔۔۔

راستےمیں بار بار خیال آرہاتھا کہ وہ کتنے خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں   جو اپنے پیر و مرشد کے ساتھ یہاں حاضری دیتے ہیں ۔

مگر میں ایسا کب کر سکتا تھا ۔۔۔ ؟ کیونکہ میں نے اپنے پیر و مرشد  امیر اہلسنت حضرت 
مولانا الیاس قادری  دامت برکاتہم العالیہ  کی  کافی عرصے سے وہاں حاضری کا سنا نہیں تھا ۔
خدا جانے اس عاشق پر کیا گزرتی ہو گی جب ان کے سامنے کوئی عازم  ِمدینہ ہوتا ہو گا  ، جب کسی کو وہ کوچۂ ِمحبوب  ﷺکی طرف  روانہ کرتے ہوں گے ۔

اب وہ خود  کیوں نہیں جاتے یہ راز  وہ جانیں ، بڑی بارگاہوں کے راز و نیاز میں ہم چھوٹوں کو دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے  ۔۔۔

خیر  جیسےتیسےمیں  حرم مکہ  پہنچ گیا ۔۔۔ کیا رحمتوں کی برسات تھی  ، کیا بہار تھی ۔۔۔پتہ بھی نہیں چلا اتنے سارے دن گزر گئے ،اور پھر سوئے مدینہ روانگی کی گھڑی آگئی ،دل عجب کیف سے سرشار تھا ؍
مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ
جبین افسردہ  افسردہ قدم لرزیدہ لرزیدہ

اور پھرلڑکھڑاتا ہو امیں مدینے چلا ، چلتا چلتا سمجھ نہیں آئی میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہائے سچ مچ میں مدینے میں آچکا تھا 


معراج   کا   سماں  ہے  کہاں  پہنچے  زائرو
اونچی سے اونچی کرسی اسی پاک در کی ہے

یہاں  کی مٹھا س سے آشنائی ملی  ۔۔۔ کوچۂِ  محبوب کی گلیاں گھومی ، خوب مزے کیے مگر   ایک بات سمجھ نہیں آئی  ۔۔۔۔ ؟

 لوگ تو   کہتے تھے  کہ امیر اہل سنت مولانا الیاس قادری صاحب یہاں نہیں آتے نہ مکہ میں آتے ہیں نہ مدینہ میں آتے ہیں ۔۔۔۔۔

شاید لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے ، کیونکہ مجھے تو   ہر جگہ امیر اہل سنت نظر آئے  ۔۔۔ مکہ میں بھی نظر آئے ، مدینہ میں بھی نظر آئے  ۔

وہ مسجد عائشہ ہو ، وہ مطاف ہو ، وہ سعی کا مقام ہو ، وہ حجر  اسود  کے استیلام کا مرحلہ ہو یا پھر وہ روضۂِ انور کی حاضری کا مرحلہ ہو  یا وہ  دیگر زیارات  کا مرحلہ ہو ۔۔۔۔ الغرض  سفر ِحرمین  کا کوئی  بھی مرحلہ ہو  میں نے وہاں سینکڑوں دفع الیاس قادری کو موجود پایا ۔
وہ کہیں تو اپنی کتاب رفیق الحرمین کی صورت میں  نظر آئے ،کہیں رفیق المعتمرین کی صورت میں نظر آئے ، کہیں اپنی کتاب نماز کے احکام کی صورت میں نظر آئے ،کہیں وہ سر  پر ہرے عمامے سجائے ہوئے اپنے سنتوں کے پیکر مریدوں کی صورت میں نظر آئے  اور بنظرِ غائر دیکھا جائے تو  وہ ہزاروں لوگوں کے دلوں میں نظر آئے اور  ہزارہا  لوگوں کی دعاؤں میں نظر آئے ۔۔۔۔۔

مجھے تو وہ ہر طرف نظر آئے تھے ۔۔۔۔بلکہ بعضوں کو تو اپنی حقیقی صورت میں بھی نظرے آئے اور ایک سوڈانی عاشق  رسول کو تو اس کے سر پر عمامہ بھی باندھا، آپ  بھی غور کریں تو آپ کو بھی نظر آئیں گے اور یہ شعر سمجھ آ جائے گا :ـ 

کوئی دور ہو کر قریب ہے کوئی پاس رہ کے بھی دور ہے

دلِ مبتلا  جو  اگر  ملے  یہ  قریب   و   دور  میں  فرق   کیا

(  منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)